بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری ہسپتال منتقل کیا جائے، ورنہ احتجاج جاری رہے گا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کا مطالبہ

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین مصطفےٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کو فوری علاج کیلئے ہسپتال منتقل اورانکی فیملی کو ان تک رسائی دی جائے، معاملات کو اس حدپر مت لے کر جائیں جہاںاپوزیشن کی سپیس ختم ہو جائے،حالات خراب ہونگے تو پھر قابو نہیں کرسکیں گے،مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین مصطفےٰ نواز کھوکھر نےان خیالات کا اظہار چیئرمین پاکستان رائٹس موومنٹ سینیٹر مشتاق احمد اور ترجمان عوام پاکستان پارٹی ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، مصطفےٰ نواز کھوکھر کا مزید کہنا تھا کہ سب دیکھ لیں پچھلے دو دنوں سے دیکھیں ملک میں کیا ہورہا ہے، ہم سب آج انتہائی تاریک دور سے گزررہے ہیں، پی ٹی آئی بانی چیئرمین کی ایک آنکھ کی بینائی غفلت اوربدسلوکی کی وجہ سے چلی گئے،حکومت ایک بڑی جماعت کے سربراہ قیدی کو اسکے حقوق دینے کیلئے تیار نہیں، دونوں اپوزیشن لیڈرزپارلیمان کے اندر محصور ہیں،پارلیمنٹ لاجز کو تالے لگا کر بند کردیا گیا ہے،کے پی ہاؤس میں بھی یہی صورتحال ہے ۔

ایک صوبائی وزیر کا گریبان پھاڑا گیا،پارلیمان کی اب کوئی توقیر باقی نہیں رہ گئی ہے،قیدی کیلئے حق مانگنے کی سزا دی جارہی ہے،بانی پی ٹی آئی کسی صورت اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں، آج کھانا پارلیمان کے اندر نہیں لے جانے دیا گیا،اسے یزیدیت نہ کہا جائے تو اورکیا کہا جائے،مصطفےٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹری رپورٹرز نے بھی پارلیمان کے دروازے بند ہونے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،کل ایک لاہور میں صحافی کو ن لیگ کی حکومت نے سچی خبر دینے پر اٹھوا لیاآپ ہم سب مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں اب سب کی جدوجہد ایک ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف کو فوری علاج کیلئے ہسپتال منتقل کیا جائےانکی فیملی کو ان تک رسائی دی جائے،مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے،معاملات کو اس سٹیج پر مت لے کر جائیں اوراپوزیشن کی سپیس ختم نہ کریں حالات پھر خراب ہونگے پھر قابو نہیں کرسکیں گے۔

سابق سنیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز پر تالے لگے ہیں، کے پی ہاؤس کا پولیس کے ذریعے گھیراؤ ہے، قائداعظم کے پاکستان کو زنجیریں ڈالی گئی ہیں،لاہور سے جس طرح صحافی کو گرفتار کیا گیایہ کیسی فسطائیت ہے،،حکومتی حراست میںبانی پی ٹی آئی کی بینائی چلی جانا،شدید درد میں جیل رکھنے کی برائے راست ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے،سپریم کورٹ اسکا تعین کرے یہ کس کی آرڈر سے ہوا ،جمہوریت کی جنگ ہے،ملک کو قید خانہ بنا دیا گیا ہے،عوام سے کہتا ہوں قائد کے پاکستان کو بچانے کیلئے نکلیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو علاج معالجہ کی سہولت فوری دی جائے،ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جو اس دھرنے کا اہتمام کیا ہے ہم ان کے ساتھ یکجہتی کرتے ہیںپاکستان کی سیاسی پارٹیوں کو باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی سب بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ کی ایک آنکھ کی بینائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے جا چکی ہے، اس وقت عمران خان آنکھ کی شدید بیماری میں مبتلا ہیں ابھی تک ہمیں نہیں پتہ کہ آنکھ کی بینائی کس حد تک جا چکی ہے اگر وقت کا ضائع نہ کیا جاتا تو شائد عمران خان کی ایک آنکھ ضائع نہ ہوتی ،پاکستان میں اس وقت ضرورت ہے ہم اپنے دلوں کو بڑا کریں اور اپنے لیڈر کے ساتھ یکجہتی کریںپاکستان کو مل جل کر ان حالات سے نکالا جائے پاکستان کے لوگ اس سیاست کی وجہ سے رل گئے ہیں،ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک حکومت کوئی عملی اقدام نہیں کرتی ہمارا یہ دھرنا جاری رہے گا۔