اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو عید سے قبل تمام بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنانے اور صحافیوں کے ہائوسنگ کوٹے میں شفاف اصلاحات لانے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود بٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا ،جس میں سینیٹرز بلال احمد خان، جان محمد، ہدایت اللہ خان، عبدالشکور خان، خالدہ عطیب، حسنہ بانو، محمد اسلم ابڑو اور سیف اللہ ابڑو نے شرکت کی۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداران سمیت صحافتی تنظیموں کے نمائندگان بھی موجود تھےجبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام نے صحافیوں کے ہائوسنگ کوٹے سے متعلق بریفنگ دی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کے 6 ستمبر 2024ء کے فیصلے کے تحت پاک پی ڈبلیو ڈی کے مینٹیننس عملے کو مختلف اداروں میں منتقل کیا گیا بریفنگ کے مطابق 91 فیصد یعنی 2 ہزار 940 ملازمین کو منتقل کر کے باقاعدگی سے تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں، 6 فیصد (173 ملازمین) کی منتقلی مکمل ہو چکی ہے اور متعلقہ محکمے فنڈز کے حصول کے لیے وزارت خزانہ سے رجوع کر رہے ہیں جبکہ 3 فیصد (112 ملازمین) کی منتقلی آخری مراحل میں ہے۔ بتایا گیا کہ 30 جون 2025ء تک تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جا چکی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ 2 ہزار 860 ملازمین جنہیں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سٹیٹ آفس، وزارت دفاع، وفاقی شرعی عدالت، وزارت خارجہ، ایف بی آر، نیب اور سی جی اے میں منتقل کیا گیا، انہیں بلا تعطل تنخواہیں مل رہی ہیں جبکہ 365 ملازمین کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود بٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسران تو اجلاسوں میں موجود ہیں مگر ملازمین مشکلات کا شکار ہیں انہوں نے انکشاف کیا کہ دو ملازمین دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح ہدایت کی کہ عید سے قبل تمام بقایا جات ادا کیے جائیں بصورت دیگر متعلقہ افسران کی تنخواہیں روکنے کی سفارش کی جائے گی۔سینیٹر بلال احمد خان نے کہا کہ ڈھائی سال گزرنے کے باوجود ملازمین کے مسائل حل نہیں ہوئے جبکہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے معاملے کے حل کے لیے ذیلی کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔کمیٹی نے چمبا ہائوس لاہور کی ملکیت سے متعلق پیش رفت کا جائزہ بھی لیا۔
سٹیٹ آفس لاہور نے صوبائی حکومت سے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا ہے اور پاک پی ڈبلیو ڈی کے ریکارڈ سے ادائیگی کا چیک حاصل کر لیا گیا ہے، معاملہ اس وقت ریکارڈ کی مفاہمت کے مرحلے میں ہے۔صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے مختص ہائوسنگ کوٹے پر غور کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف ہائوسنگ سکیموں میں پلاٹس کی الاٹمنٹ میں تاخیر ہوئی ہے چیئرمین کمیٹی نے شفاف طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سکرونٹی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جس میں پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے سمیت متعلقہ تنظیموں کی نمائندگی شامل ہوگی۔کمیٹی نے متفقہ طور پر صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے دو فیصد کوٹہ بحال کرنے کی سفارش بھی کی اور ہدایت کی کہ سکرونٹی کمیٹی تین ماہ میں اپنی سفارشات مکمل کر کے رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کرے۔
وزارت اطلاعات کے حکام نے آگاہ کیا کہ ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ پالیسی ختم کر کے سنیارٹی کی بنیاد پر الاٹمنٹ کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی سمری رواں ہفتے ارسال کی جا رہی ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر یا ملازمین سے ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام معاملات میں شفافیت، احتساب اور فوری ریلیف کو یقینی بنایا جائے گا۔

