اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاور ڈویژن نے بجلی کی قیمتوں سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس کے تناظر میں وضاحت جاری کرتے ہوئے جنوری 2026 کے دوران قومی بجلی نظام کی غیر معمولی کارکردگی کو ریکارڈ پر لانے کا اعلان کیا ہے بیان کے مطابق مشکل نیٹ ورک اور آبی حالات، نہروں کی بندش، شمالی و جنوبی علاقوں میں دھند کے باعث ٹرانسمیشن لائنوں کی ٹرپنگ اور شدید سردی کے باوجود قومی نظام نے جنوری کی بلند ترین سطح کی پیداوار حاصل کی۔ ماہ جنوری میں 16,584 میگاواٹ کی بلند ترین پیداوار جبکہ اوسط پیداوار 12,239 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ، کل پیداوار 9,106 گیگاواٹ آور رہی جو کہ 7,962 گیگاواٹ آور کے تخمینہ سے تقریباً 14 فیصد زیادہ ہے۔ یہ جنوری 2025 کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
جنوری کے دوران کئی بڑے پیداواری یونٹس میں رکاوٹیں پیش آئیں، جن میں کے-3 کا 1,040 میگاواٹ کا فورسڈ آؤٹج، حویلی بہادر شاہ (HBS) کا 1,180 میگاواٹ فورسڈ آؤٹج، ساہیوال کول پاور پلانٹ میں جزوی اور جبری بندش، اور سی-III کا 300 میگاواٹ ری فیولنگ آؤٹج شامل ہیں بیس لوڈ صلاحیت میں کمی اور پن بجلی کی محدود دستیابی کے باوجود نظام کو میرٹ آرڈر ڈسپیچ کے تحت چلایا گیا۔ دستیاب تھرمل وسائل کا بہترین استعمال کیا گیا جبکہ آبی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہائیڈل پیداوار کو منظم رکھا گیا۔ ٹرانسمیشن نظام کی مسلسل نگرانی اور پیشگی حفاظتی اقدامات کے باعث گرڈ کا استحکام برقرار رکھا گیا اور کسی بڑے بریک ڈاؤن یا لوڈ مینجمنٹ سے بچاؤ ممکن ہوا ، پاور ڈویژن نے مشکل حالات میں نظام چلانے والے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ثابت قدمی کو سراہا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2026 میں ریفرنس ری بیسنگ سے متعلق تجارتی اثرات کی تفصیلات سی پی پی اے-جی سے حاصل کی جا سکتی ہیں اس وقت نظام کی طلب کو بہتر آبی بہاؤ کی بدولت ہائیڈل پیداوار کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے جبکہ صرف ایک آر ایل این جی پاور پلانٹ فعال ہے۔ افطار، تراویح اور سحری کے اوقات میں اضافی طلب کے باوجود فرنس آئل پر مبنی کوئی بجلی پیدا نہیں کی گئی ، پاور ڈویژن نے ملک بھر کے صارفین کو قابل اعتماد اور کم لاگت بجلی کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔

