پشاور (بیورو رپورٹ )پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کو “عوام پرایٹم بم” قرار دے دیا، اور خیبر پختونخوا میں موٹر سائیکل مالکان کو سب سڈی دینے کا اعلان کر دیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے آج پشاور میں پریس کانفرنس کر کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتین بڑھانے کی مذمت کی۔ سہیل آفریدی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے متعلق کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت موٹرسائیکل سواروں کو پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے سبسڈی دے گی۔ صوبے میں اس وقت تقریباً 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں اور حکومت اس بڑے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا، بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام کو مہنگائی کے مزید بوجھ سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ سہیل آفریدی نے کہا، گندم کی کٹائی کے موقع پر کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج تیار کیا جا رہا ہے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا ماضی میں جب 12 روپے اضافہ ہوتا تھا تو اسے پٹرول بم کہا جاتا تھا، مگر آج 55 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ایسے حالات میں وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدنے کو غلط ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت ایسے اخراجات کے بجائے یہی وسائل عوام کو سبسڈی دینے پر خرچ ہونے چاہئیں تھے۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا، ہم کسی حکومت کے نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔ نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد ہے اور غیر ملکی سرکاری دوروں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ صوبائی حکومت نے پٹرول پمپوں کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ قائم کر دیا ہے۔ جس کے ذریعے پٹرول کی فراہمی اور ذخیرہ اندوزی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ بی آر ٹی کے لیے مزید 140 بسیں خریدی جائیں گی جن میں سے 52 بسیں پہلے ہی تیار ہو چکی ہیں ،صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پٹرولیم لیوی 86 روپے سے بڑھا کر 105 روپے کر دی گئی ہے۔رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں 822 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے جا چکے ہیں۔ سال کے اختتام تک یہ رقم 1700 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

