وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوھدری کا کورنگی فش ہاربر پر فشریز ریسرچ سینٹر کے قیام کا اعلان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے جمعرات کے روز کورنگی فش ہاربر پر فشریز اور ایکواکلچر ریسرچ سینٹر کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد فشریز شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور بلیو اکانومی کو فروغ دینا ہے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کورنگی فش ہاربر اتھارٹی میں 10 ایکڑ رقبے پر قائم ہونے والا فشریز و ایکواکلچر تحقیقی اور تربیتی مرکز فشریز سیکٹر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو بے پناہ صلاحیت کے باوجود اس وقت مجموعی قومی پیداوار میں 0.5 فیصد سے بھی کم حصہ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ منصوبہ چھوٹا محسوس ہو سکتا ہے، تاہم یہ بلیو اکانومی میں تیز رفتار ترقی کے لیے محرک ثابت ہوگا۔ اگر اسے مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو فشریز کے شعبے کو اربوں ڈالر کی صنعت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور یہ جدید ایکواکلچر کے لیے ایک مثالی مرکز بن سکتا ہے منصوبے کے تحت یہ مرکز ایک جامع “ایکوا ایکوسسٹم” کے طور پر کام کرے گا، جہاں مچھلی کے مکمل سپلائی چین کو یکجا کیا جائے گا، جس میں شکار، فارمنگ، لینڈنگ، نیلامی، نگرانی، ٹیسٹنگ، پروسیسنگ، پیکنگ اور برآمدات شامل ہوں گی۔ اس کے ساتھ تحقیق اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں ہیچریز، ایکواکلچر ٹرائلز، کوالٹی لیبارٹریز، تربیتی پروگرامز اور جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے شامل ہوں گے۔

جنید انوار چوہدری کے مطابق یہ مرکز فیڈ ایفیشنسی، بیماریوں پر قابو، افزائش نسل اور پیداوار میں اضافے کے لیے تحقیق پر مبنی اقدامات کو فروغ دے گا، جس سے ماہی گیر، کسان، کاروباری افراد، طلبہ اور صنعت سے وابستہ افراد مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پائلٹ منصوبے، توسیعی خدمات اور جامعات، بین الاقوامی اداروں، این جی اوز اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی، جبکہ جھینگا، تیلاپیا، سی باس اور پومفریٹ اہم اقسام ہوں گی وفاقی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے سے ویلیو چین میں بہتری، سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ، شعبے کی آمدن میں بہتری اور فارمنگ، پروسیسنگ، لاجسٹکس اور تحقیق کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پائیداری کے لیے کنٹرولڈ فارمنگ، اسٹاک مینجمنٹ، فضلے پر قابو اور مسکن کے تحفظ جیسے اقدامات شامل ہوں گے، تاہم پانی کی آلودگی، بیماریوں کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی بگاڑ جیسے خطرات سے بھی خبردار کیا وزیر بحری امور نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں جدید ری سرکیولیٹنگ ایکواکلچر سسٹمز متعارف کرائے جائیں گے، جن کے ذریعے سینسرز، خودکار نظام اور ریئل ٹائم تجزیات کی مدد سے مچھلی کی افزائش کی جائے گی اور پانی کو دوبارہ استعمال میں لا کر ضیاع کم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا طویل المدتی ہدف ایک پائیدار، برآمدات پر مبنی اور خطے میں نمایاں حیثیت رکھنے والا ایکواکلچر مرکز قائم کرنا ہے، جو مضبوط بلیو اکانومی کے ذریعے معاشی ترقی کو تقویت دے گا.