پی اے سی ذیلی کمیٹی کا سیکرٹ فنڈ اور اشتہاری اخراجات پر سوال، وضاحت طلب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹ سروس فنڈ کی مینٹیننس اور آپریشن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران کنوینر معین عامر پیرزادہ نے سوال اٹھایا کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو سیکرٹ سروس فنڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی ، سیکرٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فنڈ اب ختم کر دیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس کی ادائیگی روک دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آڈٹ حکام کی جانب سے طلب کیا گیا تمام ریکارڈ فراہم کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کا وہ حکم نامہ تلاش کر کے پیش کیا جائے جس کے تحت سیکرٹ فنڈ کی ادائیگی بند کی گئی، تاکہ معاملے کی مکمل وضاحت ہو سکے، اجلاس میں اشتہاری مہم پر 245 ملین روپے کے خلاف ضابطہ اخراجات سے متعلق آڈٹ اعتراض بھی زیر غور آیا۔ کنوینر معین عامر پیرزادہ نے اشتہارات کی تقسیم کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کی سمجھ نہیں آتی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی ایسے اخبارات بھی اشتہارات حاصل کرتے ہیں جو صرف اشتہار والے دن ہی شائع ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اشتہارات کی مد میں رقوم ادا کی جا رہی ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صحافیوں کو بروقت اور جائز تنخواہیں دی جائیں، کمیٹی نے معاملے کی مزید جانچ کے لیے ایک اور ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی۔