ایف بی آر کا سگریٹ انڈسٹری پر بڑا کریک ڈاؤن، سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کے انکشافات

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )ایف بی آر کے سگریٹ انڈسٹری پر چھاپے، ٹیکس چوری میں سینیٹ و قومی اسمبلی کے ارکان سمیت متعدد سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں وفاقی بورڈ آف ریونیو ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے اربوں روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب کر دیں ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ٹیکس چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی، جبکہ سیاسی دباؤ اور بااثر شخصیات کی مداخلت کے باوجود مختلف سیاسی خاندانوں کی ملکیتی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مارچ 2026 تک غیر قانونی سگریٹوں کے خلاف 710 قانونی کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران اربوں روپے مالیت کا غیر ٹیکس شدہ خام مال، تیار سگریٹ اور مشینری ضبط کی گئی ذرائع کے مطابق نومبر 2025 میں ریجنل ٹیکس آفس پشاور کی انفورسمنٹ ٹیموں نے مردان میں انڈس ٹوبیکو کمپنی کے ویئر ہاؤس پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ مسلح مزاحمت کے باوجود 200 کارٹن غیر قانونی سگریٹ قبضے میں لیے گئے۔ بعد ازاں مشینری کی غیر قانونی منتقلی کے معاملے پر کمپنی کے دو مالکان کو بھی حراست میں لیا گیا اسی ماہ سوئینیر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق کمپنی مشہور سیاستدان سینیٹر دلاور خان کی ملکیت ہے اور ٹیکس چوری میں ملوث ہونے پر فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔

دسمبر 2025 میں ٹیکس حکام نے مردان میں یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی مشینری اور خام مال ضبط کیا۔ کمپنی کے مالک سابق رکن قومی اسمبلی حاجی نسیم الرحمان ہیں جبکہ ان کے بھتیجے سینیٹر فیصل سلیم الرحمان بھی اہم پارلیمانی عہدے پر فائز ہیں اسی دوران خیبر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف بھی بڑی کارروائی کی گئی، جس میں بھاری مقدار میں غیر ٹیکس شدہ تمباکو اور اربوں روپے کا خام مال ضبط کیا گیاذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کریک ڈاؤن کے بعد متعدد فیکٹریوں نے اپنے یونٹس آزاد کشمیر اور بعد ازاں سندھ منتقل کیے، تاہم وہاں بھی غیر قانونی سرگرمیوں کے شواہد ملے ہیں ایف بی آر کے مطابق سیاسی دباؤ کے باوجود کارروائیاں جاری رہیں گی اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔