اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کل اپنے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں ان کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ متوقع ہیں، سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے کی مجموعی صورتحال میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور امن عمل میں سہولت کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اسلام آباد کو ایک “سفارتی پل” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو علاقائی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، دورے کے دوران ایرانی صدر کی ملاقاتیں وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام سے متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں شیڈول میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
بات چیت میں پاک-ایران تعلقات، باہمی تجارت، توانائی کے منصوبے، سرحدی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے اور زمینی و تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے امکانات بھی زیر بحث آئیں گے۔
مزید یہ کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران پاکستان کے علاقائی امن و استحکام کے لیے کردار کو بھی سراہا جائے گا، یہ دورہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے پورے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے نئے مرحلے کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔

