سی ڈی اے اختیارات کا ناجائز استعمال سٹیٹ کے دو افسران کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے نے ایک کو گرفتار کر لیا

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے اسلام اباد کے ڈائریکٹر شہزاد ندیم بخاری کی ہدایت پر (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے سی ڈی اے کے دو افسران کے خلاف مبینہ جعلسازی، دھوکہ دہی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا، ڈپٹی ڈائریکٹر میر فیضان کی سربراہی میں ایف ائی اے اینٹی کرپشن سرکل نے زیر التوا انکوائری وہ مکمل کرتے ہوئے فوری طور پر مقدمہ درج کیا.

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ نمبر 31/2026 درج کیا گیا ہے، جس میں دفعات 420، 468، 471، 109 تعزیرات پاکستان جبکہ 5(2) 1947 پی سی اے شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سی ڈی اے اسٹیٹ مینجمنٹ II کے ڈپٹی ڈائریکٹر سجاد اللہ اور ڈیلنگ اسسٹنٹ یاسر عرفان نے مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں، پی اینڈ وی اسکیم نمبر 1 کے پلاٹ نمبر 13 کے لیے این ڈی سی جاری کیا، حالانکہ مذکورہ پلاٹ مبینہ طور پر 2022 سے عدالتی کارروائی (لٹیگیشن) کا شکار تھا۔

دستاویز کے مطابق ایف آئی اے انکوائری نمبر 58/2026 کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افسران نے پلاٹ کے زیرِ سماعت معاملے کی مبینہ طور پر نشاندہی نہیں کی اور این ڈی سی کے اجرا کی منظوری دی، شکایت کنندہ راجہ سجاد احمد ربانی کے مطابق بعد ازاں پلاٹ کی منتقلی میں رکاوٹ پیش آئی اور وہ اسے فروخت نہیں کر سکے۔ ایف آئی اے نے ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ دیگر ممکنہ کرداروں کا تعین بھی تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔