اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹیوں کے دوران نوکری سے نکالنے پر نجی ادارے کو 12لاکھ روپے جرمانہ، ادارے کو شکایت گزار ملازمہ کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی سے سختی سے روک دیا گیا، تفصیلات کے مطابق وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے ایک نجی ادارے کو خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹیوں کے دوران نوکری سے نکالنے پر 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
گزشتہ سال نومبر میں دائر کی گئی درخواست میں خاتون درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ میں اکاؤنٹنگ کے شعبے میں کام کر رہی تھی اور منظور شدہ زچگی کی چھٹیوں پر تھی،ایک فون کال کے ذریعے بتایا گیا کہ اس کی ملازمت ختم کی جا رہی ہے جس کیلئے کوئی رسمی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا نہ ہی کوئی لکھی ہوئی اطلاع دی گئی ہے۔
گواہوں کی شہادتوں اور دستاویزی شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد فوسپا نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ زچگی کی چھٹیوں کی مدت میں کسی خاتون کو ملازمت سے برخاست کرنا منفی سلوک ہے، یہ عمل قانون کے تحت صنفی تفریق اور نفسیاتی ہراسگی کے برابر ہے۔ وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ حاملہ پن، ولادت، میٹرنٹی لیو اور بعد میں صحت یابی کی حالتیں خواتین کے لیے منفرد ہیں اور ان حالتوں سے منسلک کوئی بھی نقصان دہ سلوک مکمل طور پر ممنوع ہے۔
انکوائری سے یہ بھی واضح ہوا کہ ادارے کے ہاتھوں صنفی امتیاز صرف ملازمت ختم کرنے کی اطلاع تک محدود نہیں تھا بلکہ زچگی کی چھٹیوں سے واپسی کے بعد ملازمہ کے سفر کی سہولیات سے متعلق مسائل جو اس کی صحت یابی کے لیے ضروری تھے مناسب طریقے سے حل نہیں کیے گئے اگرچہ آجر کو اس کی طبی حالت کی معلومات تھی۔
علاوہ ازیں بچے کی دیکھ بھال سے متعلق دستاویزات میں تاخیر اور واپسی سے فوری بعد سالانہ تنخواہ میں اضافہ کی بے وجہ قطع کو صنفی تفریق کے ایک عمومی نمونے کا حصہ قرار دیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ نجی شعبے کے تمام آجرین پر لاگو ہے اورصنفی تفریق،زچگی ہراسگی سے جڑے مقدمات میں ایک نقطہ عروج کے طور پر کام کرے گا۔

