کراچی (بیورو رپورٹ) سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے باوجود سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ، سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے بلدیاتی قوانین میں مجوزہ ترامیم پر مشتمل بل ایوان میں پیش کیا تو اپوزیشن ارکان نے بھرپور احتجاج شروع کردیا۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاجاً بل کی نقول بھی پھاڑ دیں۔
شدید ہنگامہ آرائی کے دوران بل پر ووٹنگ کرائی گئی، جس کے بعد سندھ اسمبلی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔ بل کی منظوری کے بعد اجلاس کو منگل کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا .
اپوزیشن کا بل مسترد، عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان :
اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ، اپوزیشن رکن شبیر قریشی نے کہا کہ اپوزیشن بل کو تسلیم نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی بلدیاتی معاملات میں سیاسی جوڑ توڑ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، اگر دوبارہ ایسا عمل دہرایا گیا تو انتخابی عمل سے متعلق خدشات مزید مضبوط ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے بل میں بلدیاتی اداروں کو مطلوبہ اختیارات منتقل نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے باوجود اختیارات کا بڑا حصہ صوبائی حکومت کے پاس برقرار ہے ، انہوں نے سیاسی طور پر منتخب افراد کو بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی صورت میں بطور ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے سے متعلق ترمیم کو بھی جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔
محمد فاروق کے مطابق پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے بل کی مخالفت کی ہے اور جماعت اسلامی اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون عوام کے بلدیاتی حقوق کے تحفظ کے بجائے اختیارات کو مرکز میں رکھنے کا باعث بنے گا۔
ایم کیو ایم کا سندھ حکومت پر آمرانہ طرز عمل کا الزام :
ایم کیو ایم کے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے بھی بل کی منظوری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سندھ حکومت پر سیاسی آمریت کا الزام عائد کیا ، علی خورشیدی نے کہا کہ اسمبلی کے دیگر امور کو نظرانداز کرکے اچانک بل کی منظوری کا عمل مکمل کیا گیا۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر اس قانون کو مسترد کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے نیا قانون منظور کرنا عدالتی فیصلے سے متصادم ہے ، ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ محض عددی اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرنا درست طرز حکمرانی نہیں، جبکہ سندھ حکومت کا موجودہ رویہ آمرانہ طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام ایسی طرز کی جمہوریت کو مسترد کرتے ہیں۔
ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے ارکان نے بل کے خلاف ایوان میں بھرپور احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی ، دوسری جانب ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً بل کی کاپیاں پھاڑ دیں، جبکہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے ’’بل نامنظور، نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے گئے ، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے شورشرابے اور نعرے بازی کے باعث اجلاس کا ماحول کشیدہ ہوگیا جب کہ اپوزیشن ارکان نے سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

