Islamabad dryport Capitalnewspoint.com

اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر مبینہ کرپشن کا انکشاف، کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے نذرانوں کا الزام

اسلام آباد (احسان بخاری) اسلام آباد ڈرائی پورٹ میں کسٹم افسران کی مبینہ ملی بھگت بیرون ملک سے آنے والے کروڑوں روپے کے امپورٹ کئے گئے سامان پر زائد ویلیو لگانے کے بعد اور مٹھی گرم کرنے والوں کی ڈیوٹی ٹیکسز کم اور جلد کلیئر کرنے کا انکشاف ہوا ہے .

ذرائع کے مطابق گیارہ سال سے ایک ہی سیٹ پر تعینات رہنے والے ایک سپرنٹنڈنٹ کے بعد کسٹم کا ایک اور سپرنٹنڈنٹ مرتضیٰ اور کسٹم انسپکٹر مبینہ ملی بھگت کرکے آنے والے کنٹینرز کو کوئی کئی روز تک کھڑا رکھتے ہیں جس پر امپورٹرز کو روزانہ کی مد میں کنٹینرز پر کرایہ ڈالر میں ادا کرنا پڑتا ہے لیکن جو امپورٹر کسٹم سپرنٹنڈنٹ مرتضیٰ اور انسپکٹر مبینہ طور پر معاملات طے ہوجاتے ہیں اس کا کنٹینر کھول دیا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر کسٹم پہلے ان کنٹینرز کی ڈیوٹی‘ ٹیکسز زیادہ لگا دیتے ہیں اور اس کی تعداد بھی زیادہ بڑھا دیتے ہیں تاکہ امپورٹر سے مبینہ طور پر معاملات طے ہوسکیں بعد ازاں معاملہ طے ہونے کے بعد ڈیوٹی ٹیکسز میں کمی کردی جاتی ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرائی پورٹ پر کنٹینر کے ریٹ مقرر ہیں افسر پندرہ ہزار ماتحت دس ہزار ہے جبکہ روزانہ ایسی پارٹیوں کا کام کیا جاتا ہے .

جو کسٹم افسران کے قانون کے مطابق چلیں جبکہ دوسری جانب جب کنٹینر کھول کر اس کی ویلیو لگائی جاتی ہے تو خاتون کسٹم انسپکٹر سمیت دیگر انسپکٹرز مختلف سامان کی تعداد بڑھا کر اس کی ویلیو بھی زیادہ لگا دیتا ہے ، چند امپورٹرز نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ زیادہ تر تو سامان کی ویلیو اور تعداد بھی بڑھا دیتے ہیں جس پر امپورٹرز نے کسٹم افسران کے سامنے احتجاج کیا کہ ہم پورا ٹیکس ادا کرتے ہیں.

ہم جو سامان لاتے ہیں اس کی تعداد زیادہ کیوں لکھتے ہو اور اس ویلیو بڑھا دیتے ہو ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر ہی کسٹم سپرنٹنڈنٹ اور انسپکٹر نذرانے وصول کرتے ہیں ، اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر زیادہ تر انسپکٹر تین سال سے زائد تعینات ہیں جن میں انسپکٹر شفقت جس کے بارے میں اعلیٰ حکام کو متعدد شکایات بھی کی گئیں لیکن یہ بااثر انسپکٹر تبدیل نہیں ہوسکا۔

بڑے افسران جان بوجھ کر ان کے کنٹینرز کو گیٹ پر روک دیتے ہیں تاکہ مٹھی گرم کی جاسکے امپورٹرز نے اعلیٰ حکام سے کسٹم ڈرائی پورٹ پر تعینات افسران کا فیصلہ درست کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ، اس حوالے سے سپرنٹنڈنٹ کسٹم مرتضیٰ اور انسپکٹر شفقت سمیت دیگر سے فون پر ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے مکمل خاموشی اختیار رکھی۔