لاہور (بیورو رپورٹ) میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پولیس کی تفتیش، شواہد محفوظ کرنے اور مقدمے کو خودکشی قرار دینے کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے گئے ، کمیشن نے ایس ایچ او اور تفتیش سے وابستہ اہلکاروں سے مختلف شواہد اور کارروائی سے متعلق وضاحتیں طلب کیں۔
میر رضا کے والد میر حسین نے بتایا کہ ایس ایچ او نے انہیں 48 گھنٹوں میں پیش رفت سے آگاہ کرنے کا کہا تھا، کمیشن کے مطابق پولیس نے ملزمان کو ٹریس کرلیا تھا، تاہم 48 گھنٹے بعد واقعے کو خودکشی قرار دے دیا گیا ، کمیشن نے سوال کیا کہ کیا خاندان کو بتایا گیا تھا کہ لاش ڈیڑھ دن پرانی ہے؟ عدیل افضال نے جواب دیا کہ انہوں نے لاش نہیں دیکھی تھی، کمیشن نے سمارٹ واچ خاندان سے لینے کی وجہ دریافت کی تو عدیل افضال نے بتایا کہ واچ فرانزک کے لیے حاصل کی گئی تھی اور اس کا میمو بھی بنایا گیا تھا۔
اِسی طرح کمیشن نے میمو میں اہلکاروں کے ناموں پر بھی سوالات اٹھائے، کمیشن نے کہا کہ سب کے بیانات کے مطابق صرف دو اہلکار گھر گئے تھے تو میمو پر تیسرے اہلکار یاسر اور حماد کے نام کیسے درج ہوئے؟ جبران ناصر نے کہا کہ میمو بنانے والے اے ایس آئی فیصل رحیم بھی موقع پر موجود نہیں تھے، کیس میں ہولسٹر بھی اے ایس آئی فیصل رحیم نے برآمد کیا۔
اجلاس میں حسن سوریہ سے متعلق بھی سوالات کیے گئے، کمیشن نے دریافت کیا کہ حسن سوریہ کون ہے اور اس کے پولیس سے تعلقات کے بارے میں کیا معلومات ہیں؟ عدیل افضال نے بتایا کہ احتجاج کے دوران حسن سوریہ سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے احتجاج کے باعث ہسپتال جانے کے راستے بند ہونے پر اعتراض کیا تھا۔
کمیشن نے عدیل افضال سے کہا کہ اس کے پاس خاندان اور ان کی بات چیت کے سکرین شاٹس موجود ہیں اور وہ تفتیش میں بہت گہرائی سے شامل رہے، کمیشن نے سوال کیا کہ وہ کس اتھارٹی کے تحت تفتیش کر رہے تھے؟ عدیل افضال نے جواب دیا کہ میر رضا کے والد نے مدد کی درخواست کی تھی۔
دوسری جانب کمیشن نے ایس ایچ او پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاندان قتل کا دعویٰ کر رہا ہے لیکن پولیس اس مؤقف کو تسلیم نہیں کر رہی، کمیشن نے سوال اٹھایا کہ انسانی بنیادوں پر مدد کرنے کے دوران اہم شواہد کے میمو کیوں نہیں بنائے گئے، ایسی صورتحال میں ٹرائل کے دوران خاندان کہاں کھڑا ہوگا؟ کمیشن نے سخت سوال کیا کہ کس کے کہنے پر کیس خراب کیا گیا؟
اجلاس میں میر رضا کے موبائل فون کی برآمدگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، کمیشن نے کہا کہ فون 30 جولائی کو ملا اور 31 جولائی کو فرانزک کے لیے بھیجا گیا، عدیل افضال کے مطابق موبائل فون رات 10 بجے برآمد ہوا، لوکیٹر ٹیم نے ساجد نامی مزدور سے فون برآمد کیا تھا۔
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی جس میں میر رضا کو موبائل فون پھینکتے ہوئے دکھایا گیا، تاہم کیا موبائل فون اٹھانے والوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے؟ اجلاس میں شواہد اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار سے متعلق مزید سوالات بھی کیے گئے۔

