PTI Flag Capitalnewspoint.com

گورنر راج اور ایمرجنسی نامنظور، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا ہر فورم پر مزاحمت کا اعلان

پشاور (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی اور عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آئینی، قانونی، عدالتی اور سیاسی فورمز پر جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اہم سیاسی اور آئینی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے اعلامیے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ سیاسی انتقامی اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ، اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور ایم پی او کے تحت نظر بندیوں کی مذمت کی گئی۔ پارٹی پرچم اتارنے اور ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں ہٹانے کے اقدامات کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مستند معلومات فراہم کی جائیں اور ان کے اہل خانہ اور وکلا کو فوری رسائی دی جائے۔ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کو انصاف کی فراہمی، ان کی بہنوں کی رہائی اور اہل خانہ کو تمام قانونی، انسانی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر منتخب نمائندوں کی مبینہ غیر آئینی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی پر زور دیا گیا۔

اعلامیے میں 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور انتظامی اختیارات کی منتقلی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو واپس لینے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے اس معاملے پر قبائلی مشران اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے مشترکہ جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا۔

پارلیمانی پارٹی نے بیرسٹر گوہر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں اور پارٹی کے تمام سیاسی و تنظیمی فیصلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات اور باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے ، اجلاس میں احتجاجی تحریک اور مذاکرات سمیت آئندہ سیاسی حکمت عملی میں خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کو مؤثر نمائندگی دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ان کا احترام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے اور عوامی حقوق کے تحفظ، آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کی بحالی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔