دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایران نے امریکی فریق سے بات چیت معطل کر دی، قالیباف

سوئٹزرلینڈ ( ویب ڈیسک) سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے واپسی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات کے بعد مذاکراتی عمل ترک کیا، ایرانی میڈیا سے گفتگو میں محمد باقر قالیباف نے بتایا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی صدر، مذاکراتی ٹیم اور ممکنہ طور پر ایرانی سرزمین پر حملوں سے متعلق سخت اور دھمکی آمیز بیانات دیے گئے، جس کے بعد صورتحال بدل گئی۔

ان کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ ایران صرف اسی صورت میں مذاکرات جاری رکھ سکتا ہے جب باہمی معاہدے کے ابتدائی اصولوں کے مطابق کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی سے گریز کیا جائے، قالیباف نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ کبھی بھی دھمکی یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا، ان کے مطابق دھمکی آمیز بیانات کے فوراً بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی عمل چھوڑ دیا اور دوبارہ مذاکراتی میز پر واپس نہیں آیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی فریق نے ثالثوں کے ذریعے ایک اور ملاقات کی درخواست کی تاہم ایران نے اسے مسترد کر دیا، ان کے مطابق قطر اور پاکستان کے ثالثی کردار کے ذریعے ایرانی وفد سے رابطہ کیا گیا، جس پر ایران نے واضح کیا کہ وہ صرف ثالثوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ امریکی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے، قالیباف نے کہا کہ تقریباً 80 منٹ تک جاری رہنے والی مشاورت اور گفتگو کے نتائج بعد میں پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کیے گئے۔