کراچی(بیورو رپورٹ )وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ میں ہر گاڑی کی تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی قرار دے دی وزیراعلیٰ سندھ کاکہناہے کہ بغیر انشورنس نہ اب گاڑی رجسٹرڈ ہوگی اور نہ ہی ٹوکن ٹیکس جمع ہو سکے گا،سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو 7 لاکھ اور معذوری پر 5 لاکھ روپے معاوضہ بھی ملے گا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے نو فالٹ معاوضہ سسٹم کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ سندھ کاکہناہے کہ پاکستان کا پہلا جدید ترین ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم سندھ میں فعال ہوچکا ہے، سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے بعد نئی دفعہ 67-H کا اضافہ کر دیا گیا،سڑک حادثات کے متاثرین کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ایکسائز کو قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی اوروزیر ایکسائز مکیش چاولہ کی کاوشیں رنگ لے آئیں، سندھ انشورنس قانون نافذ کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے صوبائی وزیر ایکسائز مکیش چاولہ کاکہناہے کہ انشورنس کے بغیر اب نہ گاڑی رجسٹرڈ ہوگی اور نہ ہی ٹوکن ٹیکس جمع ہوگا سیکریٹری ایکسائز کے مطابق انشورنس پالیسیوں کی ڈیجیٹل تصدیق کے لیے SECP کے ڈیٹا بیس سے رابطہ قائم کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے روڈ سیفٹی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے اس اقدام کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ تھرڈ پارٹی انشورنس کا قانون حادثات کے متاثرہ غریب خاندانوں کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگا،.
اب کسی بھی سڑک حادثے کا شکار ہونے والا شہری اکیلا نہیں ہوگا، اسے قانون کے تحت فوری مالی ریلیف ملے گا، وزیر ایکسائز مکیش چاولہ اور ان کی ٹیم نے اس پیچیدہ قانون سازی کو حقیقت میں بدلنے کے لیے دن رات کام کیا، ہم نے سسٹم کو اتنا شفاف بنا دیا ہے کہ جعلی انشورنس کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا ، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر ایکسائز اور سیکریٹری ایکسائز کو ہدایت کی کہ عوام کو اس نئے قانون کے فوائد سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی مہم چلائی جائے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ٹیکس کولیکشن کے ساتھ ساتھ عوام کو سروسز فراہم کرنا ہمارا اصل مقصد ہے، اسی لیے انشورنس کو رجسٹریشن سے جوڑا گیا ہے۔

