اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) صدر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکس سے متعلق حقائق عوام کے سامنے لانا نہایت ضروری ہے، حکومت پٹرول کو اس کی خریداری قیمت سے کم پر فروخت نہیں کر سکتی، پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایران-امریکہ جنگ شروع ہونے کے صرف دو دن بعد ہی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جبکہ لیوی ٹیکس ڈیزل سے ہٹا کر پٹرول پر منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے 80 روپے ٹیکس کم کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی کیونکہ ماضی کا تجربہ یہی ہے کہ یہ بوجھ بالآخر عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ موٹر سائیکل استعمال ہو رہے ہیں، اور ایک موٹر سائیکل اوسطاً ماہانہ 20 لیٹر پٹرول استعمال کرتی ہے۔ ملک میں استعمال ہونے والے پٹرول کا تقریباً 60 فیصد حصہ موٹر سائیکلوں پر خرچ ہوتا ہے، جس کا سالانہ تخمینہ 6 ارب ڈالر بنتا ہے۔ ان کے مطابق ایک موٹر سائیکل سوار ماہانہ تقریباً 7 ہزار روپے پٹرول پر خرچ کرتا ہے، جبکہ 3 ہزار روپے کے قریب ٹیکس بھی ادا کرتا ہے، جو کہ کئی دکانداروں اور اراکین پارلیمنٹ سے بھی زیادہ ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر ماضی میں درست پالیسیاں اپنائی جاتیں تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے لیے مختلف پالیسیاں اپنائیں، جبکہ 2018 میں ہائی اوکٹین اور دیگر فیول کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تھا جس سے قیمتوں میں کمی آئی تھی ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کیا جائے، جس سے قیمتیں کم ہوں گی اور کسی کے ناجائز منافع کمانے کا خدشہ بھی نہیں رہے گا۔

