اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ جرات مندانہ بحری اصلاحات کے ذریعے پاکستان ایک ابھرتی ہوئی علاقائی اقتصادی طاقت بن سکتا ہے “انڈین اوشن ریجن میں موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تجارت پر اثرات” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحرِ ہند ایک اہم راہداری ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی توانائی، ایشیائی صنعت، افریقی وسائل اور یورپی منڈیوں کو آپس میں جوڑتی ہے انہوں نے کہا کہ بحرِ ہند میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی صرف تجارت اور شپنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت، علاقائی استحکام اور قومی مستقبل کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔

وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر مارچ میں تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کو ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر متعین کیا انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں بروقت اور مربوط فیصلوں سے تجارت، توانائی اور لاجسٹکس کے خطرات میں کمی آئی ہے۔ کراچی پورٹ نے مارچ میں 111,300 ٹی ای یو (TEUs) ٹرانس شپمنٹ کارگو کا ماہانہ ریکارڈ قائم کیا، پورٹ قاسم نے 3,485 ٹی ای یو ہینڈل کیے جبکہ گوادر نے اپنی پہلی خصوصی ٹرانس شپمنٹ شپمنٹ سنبھالی، اور اب تک چار جہاز وہاں پہنچ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ساتھ اصلاحات کے تحت 100 فیصد اسکیننگ کی جگہ رسک مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا گیا، جس سے کلیئرنس وقت کم ہوا اور چھوٹے تاجروں کے لیے LCL (کم کنٹینر لوڈ) سہولت شروع ہوئی۔ کراچی پورٹ پر برآمدکنندگان کے اخراجات میں 60 فیصد کمی ہوئی جبکہ خراب ہونے والی اشیاء کی صرف 4 فیصد اسکیننگ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بروقت اقدامات سے کنٹینرز کی طویل عرصے سے جاری رکاوٹ ختم ہو گئی، پورٹ قاسم پر بیک لاگ ختم کر دیا گیا، کراچی میں اضافی اسٹوریج فیس معاف کی گئی اور زائد سامان نیلام کیا گیا۔ پہلی بار 137 سالہ تاریخ میں عید کے دوران بھی آپریشن جاری رہا جس میں 2,500 سے زائد کنٹینر موومنٹس ہوئیں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چیلنجز کو مواقع میں بدل دیا ہے اور تجارتی تسلسل اور شپنگ مضبوطی کو برقرار رکھا ہے۔ ان کے مطابق بروقت فیصلے پاکستان کو علاقائی اقتصادی طاقت بنا سکتے ہیں چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد نے بتایا کہ ستمبر سے کراچی پورٹ سے پپری تک چار ٹرینیں چلائی جائیں گی جبکہ جدید ایڈیبل آئل ٹرمینلز اور فیری سروسز پہلے ہی فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ میں اگلے 50 سال کی گنجائش موجود ہے حکومت نے علاقائی تجارت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کو بحری تجارتی مرکز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

