گلگت بلتستان میں حکومت سازی، مسلم لیگ (ن) نے وزیر اعلیٰ کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا

گلگت (بیورو رپورٹ) گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں، جس کے تحت مسلم لیگ (ن) نے قائدِ ایوان (وزیر اعلیٰ) کے انتخاب کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

گلگت میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے سیاسی فارمولے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) قائدِ ایوان کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے گی، انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر کے انتخاب میں بھی مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کی حمایت کرے گی۔

حفیظ الرحمن کے مطابق ڈپٹی سپیکر اور گورنر کے عہدے وفاقی سطح پر طے پانے والے فارمولے کے تحت مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئیں گے، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے قائدِ ایوان کے انتخاب میں حمایت کے اعلان پر مسلم لیگ (ن) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں گلگت بلتستان کے وسیع تر مفاد میں ایوان کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گی۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنما قمر زمان کائرہ، نیئر حسین بخاری اور امجد ایڈووکیٹ سمیت دیگر قائدین شریک تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن اور پارٹی کے پارلیمانی ارکان بھی موجود تھے، اس موقع پر امجد ایڈووکیٹ نے استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ممکنہ اتحاد کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق وفاقی بجٹ کی منظوری کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی متعدد ملاقاتوں میں گلگت بلتستان کی حکومت سازی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اس دوران واضح کیا تھا کہ گلگت بلتستان میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی، اور اس کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حمایت درکار ہوگی، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے۔ آج مسلم لیگ (ن) کی جانب سے باضابطہ حمایت کے اعلان کے بعد ان اطلاعات کی تصدیق ہو گئی ہے۔