پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن بل کی متنازعہ شقوں پر نظرثانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزیراعظم نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن بل کی متنازعہ شقوں پر نظرثانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 میں شامل متنازعہ شقوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عوامی اور پارلیمانی بحث کے بعد یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر قانون و انصاف کی سربراہی میں 10 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بل میں شامل Right of Way (RoW) سے متعلق دفعات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

کمیٹی کے ارکان درج ذیل ہیں:
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف — چیئرمین ،
شیری رحمان، رکن قومی اسمبلی — رکن
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن — رکن
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور — رکن
اٹارنی جنرل — رکن
مسٹر جاوید حنیف، رکن قومی اسمبلی — رکن
بیرسٹر ظفر اللہ خان (وکیل) — رکن
ڈاکٹر داؤد منیر (وکیل) — رکن
مس بیّنہ شاہ (وکیل) — رکن
سیکرٹری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن — سیکرٹری
کوئی بھی دیگر رکن/ماہر جسے شامل کیا جائے — رکن (کوآپٹ کرنے کا اختیار)

کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بل کی قانونی، آئینی اور پالیسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے، خصوصاً ان شقوں پر غور کرے جو نجی جائیداد، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے اداروں میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر تک رسائی سے متعلق ہیں مزید برآں کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں داخلے کی اجازت، کرایوں، فیسوں، دیگر مالی معاملات، جرمانوں اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف تین دن کے اندر اپنی حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے ذرائع کے مطابق یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب مجوزہ بل کی بعض شقوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات اور اعتراضات سامنے آئے تھے۔