اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزارت آئی ٹی نے ایک پریس ریلیز میں یہ دعوی کیا ہے، کہ (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے (ROW) کی شقوں کے مقصد اور دائرۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کو تیز کرنا، شہریوں کے لیے بہتر رابطہ کاری فراہم کرنا، اور ایک شفاف قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے، جبکہ نجی املاک کے حقوق کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا، خاص طور پر اسپیکٹرم نیلامی کے تناظر میں، قابلِ اعتماد، سستی اور تیز رفتار رابطہ کاری کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
دوری جانب موبائل کمپنیوں جن میں موبی لنک ،ٹیلی نار ، وارد ، یوفون ، زونگ کےنیٹ ورک ، اور انٹر نیٹ کی سپیڈ اس قدر کمزور ہے کہ ملک میں یہ کمپنیاں د عوی دار ہیں کہ وہ ملک میں فور جی چلا رہے ہیں لیکن اس نیٹ ورک کی حالت یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ون جی نیٹ عوام کو میسر ہےاب فائیو جی نیٹ ٹاور لگانے کے معاملے میں وفاقی وزیر ائی ٹی نے 25 کروڑ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا بل سینٹ میں پہنچا تو انکشاف ہوا کہ یہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے سینٹ میں بل روک دیا گیا ذرائع کے مطابق ائی ٹی کی وفاقی وزیر شزا فاطمہ سیکرٹری ائی ٹی اور موبائل کمپنیوں کی مبینہ ملی بھگت سے ایک بل قومی اسمبلی میں چپکے سے پیش کر دیا گیا ، جبکہ
وزارت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 کی رائٹ آف وے شقیں ٹیلی کام آپریٹرز کو کسی فرد کی نجی ملکیت میں مالک کی اجازت یا قانونی عمل کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتیں، اور نہ ہی نجی زمین کے جبری حصول کی اجازت دیتی ہیں۔
جائیداد کے مالکان کو جواب دینے، شرائط پر مذاکرات کرنے، جہاں قابلِ اطلاق ہو معاوضہ طلب کرنے، اعتراضات اٹھانے، اور راستے کی ترتیب، وقت اور رسائی جیسے معاملات پر اتفاق رائے کا مکمل حق حاصل رہے گا۔ اگر کوئی مالک یاد دہانیوں کے باوجود جواب نہ دے، تو معاملہ قانون کے مطابق متعلقہ حکومتی ادارے کو غور و خوض اور فیصلہ کے لیے بھیجا جائے گا، جبکہ نجی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق برقرار رہیں گے۔ اس دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو زیرِ غور معاملے کے دوران نجی زمین پر زبردستی داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مجوزہ ترامیم نجی جائیداد کے جبری حصول کی بھی اجازت نہیں دیتیں۔
مزید برآں، جن جرمانوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان جائیداد مالکان سے متعلق ہیں جنہوں نے پہلے سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہو اور بعد ازاں اس کی شرائط سے منحرف ہو جائیں، کیونکہ اس سے سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچتا ہے، اگر انفراسٹرکچر بچھانے کا کام کیا جائے تو متعلقہ اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ جائیداد کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ جائیداد کو کوئی مستقل نقصان نہ پہنچے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ خدمات کو ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی کمی کے باعث شدید مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ رائٹ آف وے کی منظوری کے بکھرے ہوئے نظام، من مانی فیسوں اور غیر یکساں تقاضوں کو قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث نیٹ ورک کی توسیع سست ہوئی، تنصیب کے اخراجات بڑھے اور صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات کا معیار متاثر ہوا۔ ان مسائل کے حل کے لیے مجوزہ ترامیم ایک واضح اور شفاف قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جو سرکاری املاک، منظم نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور انفرادی نجی املاک کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بناتا ہے۔
مجوزہ شقوں کا پہلے ہی ایک جامع قانون سازی کے عمل کے ذریعے جائزہ لیا جا چکا ہے، جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے انجام دیا گیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے شہریوں اور جائیداد مالکان سے متعلق مقاصد، دائرۂ کار، نفاذ کے طریقہ کار اور حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ شقیں پارلیمانی جانچ پڑتال اور تفصیلی غور و خوض کے بعد حتمی شکل دی گئی ہیں۔
فی الوقت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن میں زیرِ غور ہے۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مشاورتی اور جامع قانون سازی کے عمل کی حمایت کرتی ہے، جبکہ شفافیت اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہے۔
مجوزہ رائٹ آف وے اصلاحات پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے فروغ، اور لاکھوں پاکستانیوں کے لیے خدمات کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ وزارت نے زور دیا کہ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب میں غیر ضروری تاخیر کو ختم کرنا ہے، تاکہ شہری بہتر ٹیلی کام خدمات، اعلیٰ انٹرنیٹ معیار اور ملک گیر مضبوط ڈیجیٹل رابطہ کاری سے مستفید ہو سکیں۔

