سینیٹ داخلہ کمیٹی میں سگریٹ چوری اور 1120 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری پر سخت سوالات

اسلام آباد(احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، ایف بی آر گوداموں سے سگریٹ چوری اور ٹیکس چوری کے 1120 ارب روپے کے معاملے پر سخت سوالات

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایف بی آر کے گوداموں سے 2828 کارٹن سگریٹ کی مبینہ چوری، ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں 1120 ارب روپے کے مبینہ ٹیکس چوری کے معاملے، ایف آئی اے کی تحقیقات اور پارلیمانی پاسپورٹس سمیت مختلف امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس کے آغاز میں شہدا کے لیے دعا بھی کی گئی۔

ایف بی آر گوداموں سے 2828 کارٹن سگریٹ چوری کا معاملہ :

اجلاس میں ایف بی آر کے گوداموں سے 2828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے معاملے پر ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی ، ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نعمان صدیقی نے بتایا کہ 2828 کارٹن کے معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم اب تک چوری شدہ مال برآمد نہیں ہوا اور کسی شخص کو گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے ایف آئی اے حکام سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو چوری شدہ مال برآمد ہوا ہے اور نہ ہی کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے ، کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی آر اتنی تاخیر سے کیوں درج کی گئی اور اگر اتنی بڑی مقدار میں مال چوری ہوا تو اس کی ذمہ داری صرف انسپکٹرز اور چوکیداروں پر کیسے عائد کی جا سکتی ہے۔

کمیٹی میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا انسپکٹر یا چوکیدار کے پاس اتنا اختیار ہوتا ہے کہ وہ اتنی بڑی مقدار میں مال منتقل یا چوری کر سکے؟ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر صرف چوکیدار اور انسپکٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تو مستقبل میں بھی ایسی چوریاں ہونے کا خدشہ رہے گا ، ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ تمام متعلقہ ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے اور معاملے کی انکوائری جاری ہے۔ حکام کے مطابق جو بھی شخص اس واقعے میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ماہ کے اندر کیس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ چوری کس کی ملی بھگت سے ہوئی، مال کی نوعیت کیا تھی اور اس میں کون کون ملوث ہے ، چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ فیکٹری مالکان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر چوری میں بڑے کردار ملوث ہیں تو تحقیقات صرف نچلے درجے کے ملازمین تک محدود نہیں ہونی چاہئیں ، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایف بی آر نے خود اعتراف کیا تھا کہ اس نظام میں مناسب چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں، ایسے حالات میں مزید چوریاں بھی ہو سکتی ہیں۔

1120 ارب روپے کے مبینہ ٹیکس چوری کیس پر بھی بحث :

اجلاس میں ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں مبینہ طور پر 1120 ارب روپے کی ٹیکس چوری کے معاملے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ، ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 512 کمپنیوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جبکہ 20 اگست کو انکوائری شروع کی گئی تھی ، حکام کے مطابق 512 نوٹس جاری کیے گئے، 31 کمپنیوں نے اپنی تفصیلات فراہم کیں جبکہ 17 کمپنیوں کے مالکان خود پیش ہوئے۔

ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 27 نوٹس اس بنیاد پر واپس آئے کہ متعلقہ کمپنیوں کے دفاتر موجود ہی نہیں تھے ، ایف آئی اے کے مطابق 17 کمپنیوں کے مالکان نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواستوں میں ایف آئی اے کی کارروائی روکنے اور معاملے کو متعلقہ فورم پر دیکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ 2018 سے ان علاقوں میں مال منگوایا جا رہا تھا اور ٹیکس چوری کے معاملے کی نشاندہی کی گئی۔ ان کے مطابق فاٹا کے عوام کے لیے دی گئی سہولت کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد ایف بی آر کو بھی اس صورتحال کا علم ہوا اور 1120 ارب روپے کے معاملے میں نوٹس جاری کیے گئے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اسے ’’وائٹ کالر اسمگلنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے ساتھ بڑا نقصان ہے۔

معاملہ خزانہ کمیٹی کو بھجوانے کی تجویز :

سینیٹر شہادت علی اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس چوری سے متعلق معاملہ بنیادی طور پر ایف بی آر اور وزارت خزانہ سے متعلق ہے، اس لیے اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دیکھنا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری روکنا ایف بی آر کی ذمہ داری ہے اور ایف آئی اے بھی ملک کا ادارہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹیکس چوری ہوئی ہے تو یہ ملکی نقصان ہے، تاہم معاملے کو متعلقہ فورم پر لے جانا چاہیے۔

سینیٹر سیف اللہ نے بھی کہا کہ ایف آئی اے اور ایف بی آر دونوں ریاستی ادارے ہیں اور اگر ٹیکس چوری ہوئی ہے تو دونوں اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے ، انہوں نے معاملہ خزانہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز دی ، طلال چوہدری نے کہا کہ معاملے کے زیادہ تر پہلو وزارت خزانہ سے متعلق ہیں، اس لیے اسے فنانس کمیٹی کو بھجوایا جائے تو بہتر ہوگا۔

اس پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ عدالت سے رجوع کرنے والی کمپنیوں نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاملہ فنانس کمیٹی دیکھے۔ ان کے مطابق بعض عناصر کو اس بات پر اعتراض ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اس معاملے کو کیوں دیکھ رہی ہے۔

ایف بی آر اور ایف آئی اے کے مؤقف میں اختلاف :

اجلاس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر حکام کے بیانات میں اختلاف بھی سامنے آیا۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 512 کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے بعض باتیں درست انداز میں پیش نہیں کی جا رہیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق ابھی صرف نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور متعلقہ مقامات پر جا کر مزید تحقیقات ہونا باقی ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور موقع پر جا کر بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فیکٹری مالکان اور ایف بی آر کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کے معاملے کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایف بی آر حکام نے کہا کہ نہ وہ اپنے کسی افسر کو بچا رہے ہیں اور نہ ڈپٹی کمشنر کو۔

چکوال میں ٹرک پکڑے جانے کا معاملہ :

اجلاس میں چکوال میں پکڑے گئے ٹرکوں اور مقدمات کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ 11 ٹرک پکڑے گئے اور 22 افراد کو گرفتار کیا گیا، تاہم مقدمہ صرف 11 افراد کے خلاف درج کیا گیا ، کمیٹی نے سوال کیا کہ باقی 11 افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا وہ ڈرائیور اور لوڈر تھے۔

چیئرمین کمیٹی نے مقدمے کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ڈرائیور اور چوکیدار کے پاس اتنا اختیار ہوتا ہے کہ وہ اتنی بڑی چوری کر سکیں؟

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایف بی آر، کسٹمز اور موٹروے حکام کے مطابق 11 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ کارروائی کرنے والے افراد نے بتایا کہ مجموعی طور پر 22 افراد پکڑے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو معاملے پر مکمل اور درست معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

گوداموں کی سیکیورٹی اور رینجرز کی تعیناتی پر سوالات :

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تین ماہ قبل انہی گوداموں میں رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے جہاں سے چوری کا معاملہ سامنے آیا۔ انہوں نے ایف بی آر سے تحریری وضاحت طلب کی کہ اگر مستقبل میں چوری ہوتی ہے تو کیا ایف سی یا رینجرز کو بھی ذمہ دار قرار دیا جائے گا ، ایف بی آر حکام نے بتایا کہ قانون کی ایک شق کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعیناتی کے لیے لکھا جاتا ہے۔

کمیٹی رکن سینیٹر عمر فاروق نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ڈی جی کو بھی انکوائری میں شامل کیا جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ جنوری میں فہیم رشید کی تعیناتی کے حوالے سے ایف بی آر اور ایف آئی اے کے بیانات میں فرق کیوں ہے۔

پاسپورٹ کے معاملے پر طلال چوہدری سے سوالات :

اجلاس میں پارلیمنٹیرینز کے پاسپورٹس کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی، بعض کمیٹی ارکان نے شکایت کی کہ پارلیمنٹیرینز کے پاسپورٹس کے اجرا اور تجدید میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے ، طلال چوہدری نے بتایا کہ حکومت پاسپورٹ کے معاملے کو روک نہیں رہی بلکہ بعض معاملات میں تحقیقات اور پراسیس کا وقت بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک سال کے پاسپورٹ کے معاملے میں بھی کئی ماہ پراسیس میں لگ جاتے ہیں۔

کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹیرینز کو ہر سال پاسپورٹ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے اور اس پر اضافی اخراجات کیوں ہو رہے ہیں ، طلال چوہدری نے بتایا کہ تقریباً 30 ہزار بلیو پاسپورٹس کم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اگلے اجلاس تک پاسپورٹ سے متعلق مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ بعض مسائل موجود ہیں تاہم وہ متعلقہ حکام سے بات کریں گے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر بدنام نہ ہوں تو نام کیسے ہوگا۔

کمیٹی میں مزید کارروائی کی تجویز :

سینیٹر طلحہ محمود نے تجویز دی کہ سگریٹ چوری اور متعلقہ معاملات پر دوبارہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ایف بی آر، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفصیلی بریفنگ لے کر معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے ،سینیٹر شہادت علی اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد معاملہ تفتیشی اداروں کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے اور پارلیمانی کمیٹی کو تفتیشی عمل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔

اس پر سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایسے معاملات کی نگرانی بھی نہیں کرے گی تو پھر پارلیمنٹ کے کردار پر سوال اٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر سے بھی اس معاملے پر مزید پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ سگریٹ چوری، 1120 ارب روپے کے مبینہ ٹیکس چوری کیس اور ایف بی آر کے متعلقہ نظام میں موجود خامیوں کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں، کمیٹی ارکان نے متعلقہ اداروں سے تفصیلی ریکارڈ اور رپورٹس طلب کرتے ہوئے معاملات کو قانون کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا۔