اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں اجتماعی دفاع، سلامتی اور اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے ، تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے ، پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن، استحکام اور اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
حرمین شریفین کے تحفظ کی اہمیت :
حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع اور مقدس مقامات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عسکری صلاحیتوں کے باہمی انضمام سمیت علاقائی سیکیورٹی امور پر بات چیت ہوئی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار :
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفتر خارجہ نے اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں 31 اگست کو استنبول میں معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا۔
خطے میں سیکیورٹی تعاون کا نیا مرحلہ :
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید منظم کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والا سیکریٹری جنرل کرے گا۔
حالیہ سہ فریقی عسکری رابطوں میں خطے کو درپیش سیکیورٹی خطرات، بالخصوص سعودی عرب اور مقدس مقامات کو لاحق خطرات، کے حوالے سے مشترکہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مکرمہ اور مملکت میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے علاقائی امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

