اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو چیلنج کردیا، جبکہ غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں غزہ یکجہتی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی دیگر سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے باوجود فلسطین اور غزہ کے مسئلے کو مسلسل اجاگر کیا ہے۔
7 اکتوبر کو اسرائیلی ٹیکنالوجی شکست کھا گئی، حافظ نعیم :
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ان کے مطابق 7 اکتوبر کو اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی اور سکیورٹی نظام کی کمزوریاں سامنے آئیں، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اسرائیل کی حمایت جاری رکھی، جبکہ غزہ میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاکتیں ہوئیں ، حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
فلسطینیوں کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند ہوئی :
امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے کہا کہ غزہ میں جاری صورتحال کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں عوام نے احتجاج کیا اور فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی ، انہوں نے امریکی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے عالمی رائے عامہ اور فلسطینیوں کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کو نظر انداز کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت بھی ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں اور عالمی برادری کو ان کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔
مسلم حکمرانوں سے عملی اقدامات کا مطالبہ :
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ان کے مطابق حماس کی مزاحمت کے باعث فلسطین کے حق میں عالمی سطح پر حمایت میں اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے مسلم ممالک کے حکمرانوں پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے لیے صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا سلسلہ جاری رکھے گی ، حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھانے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

