اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور سفارتی رابطوں میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل عالمی حالات میں مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ریاستی حقوق کے حصول کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے مختلف عالمی تنازعات کے سفارتی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔
افغان مہاجرین کی واپسی اور پاکستان کی خدمات :
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی اور مشکل حالات میں بھی انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ، ان کے مطابق اقوام متحدہ افغان شہریوں کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کے اصول کی حمایت کرتا ہے۔
انتونیو گوتریس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کی قربانیوں اور ثابت قدمی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ جائز سیکیورٹی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
عالمی تنازعات میں پاکستان کا سفارتی کردار :
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق پاکستان اس وقت خلیج و مشرق وسطیٰ اور یوکرین سمیت عالمی سطح پر جاری اہم تنازعات کے حوالے سے سفارتی رابطوں اور سہولت کاری میں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تقسیم شدہ عالمی ماحول میں پاکستان نے مشکل سفارتی کام کو آگے بڑھاتے ہوئے اعتماد سازی اور مذاکرات کے لیے جگہ پیدا کی ہے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ اور تنازعات کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو عالمی بحرانوں سے نمٹنے میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل و ترجیحات کو عالمی ایجنڈے میں مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف :
اسحاق ڈار نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ معاہدے سے متعلق معاملات کو عالمی قانون اور طے شدہ اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے ، نائب وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ممالک میں شامل قرار دیا۔
افغان سرزمین سے دہشتگردی پر تشویش :
اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے مبینہ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس چیلنج سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں افغانستان، انسداد دہشتگردی، فلسطین، جموں و کشمیر اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت علاقائی و عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گوتریس نے پاکستان کی اقوام متحدہ کے لیے دیرینہ خدمات اور مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا۔

