اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )وفاقی دارالحکومت میں 9 پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر کے منصوبے بدعنوانی کے شدید الزامات کے نذر ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، دارالحکومت ترقیاتی اتھارٹی (سی ڈی اے) کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے بعض اہلکاروں اور تعمیراتی کمپنیوں کے درمیان ملی بھگت سے ٹینڈرز میں ہیرا پھیری کی گئی تاکہ منتخب فرمیں فاتح ٹھہریں ، یہ منصوبے ایچ-11، سنگنجانی، کرپا، پھلگراں، کھنہ، شمس کالونی اور نیلور میں پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر سے متعلق ہیں جن کے لیے کل 85 کروڑ روپے کا بجٹ مختص تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ حسن خان محمود، الفراز اینڈ سنز، زوہیب خان، اصغر خان ترین اور علم کنسٹرکشن جیسی کمپنیاں اس مبینہ اسکیم میں ملوث ہیں۔ الزام ہے کہ اہلکاروں اور ان فرموں نے پہلے سے ہی کم سے کم بولیوں کا فیصلہ کر لیا تھا اور نو منتخب کمپنیوں کو کنٹریکٹ دینے کی سفارش کرتے ہوئے آرڈر جمع کروائے، جس سے کل اخراجات 85 کروڑ سے گھٹا کر 65 کروڑ روپے کر دیے گئے۔
دوسری جانب، تین پولیس اسٹیشنوں پھلگراں، کھنہ اور ایچ-11 پر تعمیراتی کام اس لیے روک دیا گیا ہے کیونکہ عمارتیں متنازعہ اراضی پر واقع ہیں۔ زمین کے مالکان نے عدالت سے روک تھام کے احکامات حاصل کر لیے ہیں۔ ایک تعمیراتی کمپنی کے نمائندے نے کیپیٹل نیوز پوائنٹ کو تفصیلات کی تصدیق کی، جبکہ سی ڈی اے کے ایک نامعلوم اہلکار کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات اٹھتے ہی تعمیراتی کام دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے اس معاملے پر سی ڈی اے کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ نگران حکومت اسلام آباد اور اینٹی کرپشن اداروں سے اس سکینڈل کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

