اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )وفاقی تحقیقاتی ادارے کی سائبر کرائم ونگ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی این سی سی آئی اے نے آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر شہریوں سے کروڑوں روپے بٹورنے والے ایک بڑے مبینہ فراڈ نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی آر نمبر 74/2026 کے مطابق “گولڈ باکس” اور “GLBX” نامی موبائل ایپلیکیشن اور “goldbox.club” ویب سائٹ کے ذریعے عوام کو روزانہ منافع کا لالچ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا گیا۔ متاثرین کو “بلائنڈ باکس” سمیت مختلف سرمایہ کاری پیکجز متعارف کروائے گئے، جن میں روزانہ 0.5 سے 1 فیصد تک منافع دینے کے دعوے کیے جاتے تھے ، مدعی مقدمہ محمد ایاز خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان نے ابتدائی دنوں میں سرمایہ کاروں کو منافع ادا کر کے اعتماد حاصل کیا، تاہم بعد ازاں اچانک ایپ اور ویب سائٹ بند کر دی گئی، جس کے بعد صارفین اپنے اکاؤنٹس اور جمع شدہ رقوم تک رسائی سے محروم ہو گئے۔
تحقیقات کے مطابق اب تک 270 سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 13 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی رقم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، مدعی محمد ایاز خان کے مطابق ان سے اکیلے 5 کروڑ 41 لاکھ روپے ہتھیائے گئے ، ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ مبینہ فراڈ نیٹ ورک اسلام آباد کے بلیو ایریا سے چلایا جا رہا تھا ، تحقیقات میں مختلف بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل والٹس اور غیر ملکی شہریوں کے نام استعمال ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
چینی شہری ہوانگ روفینگ کو مقدمے میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ “گولڈ باکس” کمپنی کے CFO، CTO اور مارکیٹنگ ڈائریکٹر سمیت دیگر افراد کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا ہے ، این سی سی آئی اے حکام کے مطابق بینکنگ ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور مالی لین دین کی چھان بین جاری ہے جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ متعلقہ اداروں کو بھی کارروائی کے لیے مراسلے ارسال کر دیے گئے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر معمولی منافع کی پیشکش کرنے والی آن لائن سرمایہ کاری اسکیموں سے محتاط رہیں اور کسی بھی پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت اور رجسٹریشن کی مکمل جانچ ضرور کریں۔

