حلقہ وسطیٰ باغ میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر تنازع، راجہ محمد یاسین خان کا فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

باغ (بیورو رپورٹ) آ زاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے، حلقہ وسطیٰ باغ سے پارٹی رہنما راجہ محمد یاسین خان نے مرکزی اور آزاد کشمیر کی قیادت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹکٹ کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا، راجہ محمد یاسین خان نے اپنے بیان میں کہا کہ حلقہ وسطیٰ باغ کا ٹکٹ ان کا حق تھا اور انہیں امیدوار بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق یہ یقین دہانی نہ صرف آزاد کشمیر کی پارٹی قیادت نے کرائی تھی بلکہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے بھی انہیں مثبت پیغام دیا گیا تھا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ شاہ غلام قادر، طارق فاروق، فاروق حیدر اور نجیب نقی نے بھی انہیں امیدوار بنانے کے وعدے کی توثیق کی تھی، تاہم بعد ازاں پارٹی ٹکٹ مشتاق منہاس کو جاری کر دیا گیا، جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔

راجہ محمد یاسین خان کا کہنا تھا کہ ٹکٹ کا موجودہ فیصلہ میرٹ اور زمینی حقائق کے منافی ہے، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مشتاق منہاس حلقہ وسطیٰ باغ سے کامیابی کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور گزشتہ ضمنی انتخاب میں بھی وہ ان کے ووٹ بینک کی بدولت مقابلے میں موجود رہے تھے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حلقے میں غیر جانبدار گراؤنڈ سروے کرایا جائے تاکہ اصل عوامی صورتحال سامنے آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے داخلی سروے بھی ان کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حلقے میں ان کی سیاسی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے، راجہ محمد یاسین خان نے خبردار کیا کہ اگر حلقہ وسطیٰ باغ کے ٹکٹ کے فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات انتخابی مہم اور پارٹی کی مجموعی کارکردگی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ٹکٹ کے فیصلے کا ازسرنو جائزہ لیں اور پارٹی کارکنوں کے تحفظات دور کریں، دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے راجہ محمد یاسین خان کے الزامات اور مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔