اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے شعبہ لینڈ میں مالی بے ضابطگیاں افسران کی مبینہ ملی بھگت کروڑوں روپے کے پلاٹ کسی اور کے نام ٹرانسفر کرنے کا انکشاف یہ انکشاف ڈی جی ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو دی جانے والی درخواست میں ہوارخواست گزار ڈاکٹر ایم، حفیظ نے موقف اختیار کیا اور الزام لگایا اورکہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کے پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے اراضی کے حصول کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، فراڈ اور غیر مجاز طور پر معاوضہ فائلیں جاری کیے جانے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
در خواست کے مطابق موریاں اور تمہ گاؤں میں پارک روڈ اسکیم کے لیے حاصل کی گئی تقریباً 8 ہزار کنال اراضی میں ان کی 54 کنال 6 مرلہ زمین بھی شامل ہے، ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ابتدا میں تمام قانونی دستاویزات براہِ راست جمع کروائیں، تاہم بعد ازاں متعلقہ لینڈ پرووائیڈر کے ذریعے کارروائی کرانے کا کہا گیا۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعد میں انہوں نے اس اختیار کو تحریری طور پر منسوخ بھی کر دیا تھا ایف جی ایچ اے کے ڈائریکٹر لینڈ سعد بن اسد، ڈی سی لینڈ ، تحصیلدا اور پٹواری نے مبینہ طور ملی بھگت سے میری رضامندی کے بغیر معاوضے اور الاٹمنٹ سے متعلق فائلیں لینڈ پرووائیڈر کے نام جاری کر دیں، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال نہ کسی قسم کا مالی معاوضہ ملا ہے اور نہ ہی معاوضے سے متعلق کوئی فائل موصول ہوئی ہے۔
انھوں نے ڈی جی ہاوسنگ، وفاقی سیکریٹری ہاؤسنگ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر جاری کی گئی فائلیں فوری طور پر منسوخ کی جائیں، اصل مالکان کو ان کا قانونی معاوضہ براہِ راست ادا کیا جائے اور اس معاملے میں ملوث لینڈ پرووائیڈر اور اگر کوئی سرکاری اہلکار شریک رہا ہو تو اس کے خلاف شفاف اور اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انھوں نے کہا کہ سابق لینڈ ڈائریکٹر کو بھیجی گئی منسوخی کی درخواست اور ملکیتی دستاویزات بطور ثبوت منسلک کیے گئے ہیں، جبکہ اس کی نقول ڈائریکٹر لینڈ ایف جی ایچ اے کو بھی ارسال کی گئی ہیں ، لیکن انھوں نے انکار دیا اس حوالے سے درخواست گزار حفیظ سےکیپیٹل نیوز پوائنٹ نے رابطہ کیا تو انہوں نے الزام عائد کیا اس ساری بے قاعدگیوں میں ڈائریکٹر لینڈ سعد بن اسد ڈی سی لینڈ سمیت تحصیلدار سب ملوث ہیں ، جب ڈائریکٹر لینڈ سعد بن اسد سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ان کو تحریری طور پر آگاہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

