اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے احتجاجی سرگرمیوں کو ملکی معیشت اور پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق مذاکراتی عمل حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات کا عمل کیوں رکا؟
وزیراعظم کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اسپیکر چیمبر میں پی ٹی آئی کے وفد کے ساتھ دو روز تک مذاکرات کیے ، شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کو امید تھی کہ مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کی راہ نکلے گی، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی کی جانب سے طے شدہ مسودے میں بار بار تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
احتجاج سے معیشت متاثر ہونے کا خدشہ، وزیراعظم :
شہباز شریف نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کے نتیجے میں سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ سے برآمدات، صنعتی پیداوار اور دیگر معاشی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران معاشی استحکام کے لیے کوششیں کیں اور اب ملک کو ترقی کی جانب آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کے مطابق برآمدات، آئی ٹی شعبے کی آمدنی، ترسیلات زر اور ملکی پیداوار میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔
وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ معاشی استحکام کے بعد ترقی کے عمل میں دوبارہ رکاوٹ ڈالنے سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق احتجاجی سیاست سے پاکستان کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
لانگ مارچ ختم کریں، حکومت مذاکرات کرے گی، شہباز شریف :
وزیراعظم نے پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا کہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں تاکہ سیاسی معاملات پر دوبارہ بات چیت کا راستہ کھولا جاسکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے احتجاجی سرگرمیوں کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔
کشمیر چوک انڈرپاس منصوبے کا سنگ بنیاد :
وزیراعظم نے تقریب کے دوران کشمیر چوک انڈرپاس منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا ، سرکاری بریفنگ کے مطابق منصوبے کا مقصد کشمیر چوک اور اطراف میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور اسلام آباد و راولپنڈی کے درمیان آمدورفت کو بہتر بنانا ہے۔
کیپیٹل نیوز پوائنٹ کے مطابق منصوبے کی لاگت تقریباً 1.4 ارب روپے ہے جبکہ منصوبے کے تحت انڈرپاس کے ساتھ چار سلپ روڈز بھی تعمیر کیے جائیں گے ، وزیراعظم نے منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا۔
جڑواں شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم کرنے کا منصوبہ :
وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر چوک انڈرپاس اور ایکسپریس وے کی سروس روڈز کی تکمیل سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر میں آسانی پیدا ہوگی ، انہوں نے بتایا کہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد دونوں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ موجودہ تقریباً 30 منٹ سے کم ہوکر 16 سے 18 منٹ تک آنے کی توقع ہے۔
محسن نقوی کے مطابق اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا مقصد آئندہ ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس سے قبل دارالحکومت میں بنیادی سہولیات اور شہری انتظامات کو بہتر بنانا بھی ہے۔
اسلام آباد کو پلاسٹک فری اور کیش لیس بنانے کا ہدف :
وزیر داخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد کو مکمل طور پر پلاسٹک فری شہر بنانے اور کیش لیس سٹی کی جانب منتقل کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے ، ان کے مطابق ایف نائن پارک کو جدید تفریحی مرکز بنانے، سفاری پارک کے قیام اور شہر کو مزید سرسبز بنانے کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں ، ان اقدامات کا مقصد دارالحکومت میں شہری سہولیات، ماحول اور تفریحی مواقع کو بہتر بنانا ہے۔
کشمیر چوک سے سری نگر تک سڑک کا حوالہ :
وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شاہراہ مستقبل میں سری نگر تک پہنچنے کی خواہش کی علامت ہے ، انہوں نے کہا کہ انڈرپاسز، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا، وقت کی بچت اور معاشی سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

