اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے، تاہم ریاست کو دباؤ میں لا کر یا یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی معاملات قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے ، ان کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج پر رانا ثناء اللہ کا مؤقف :
رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ 2014 کے دھرنے کے بعد مسلسل آگے بڑھا۔ انہوں نے 126 روزہ دھرنے اور اسلام آباد میں احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیاسی طرزعمل پر سوالات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے وقت میں جب صوبے میں سیکیورٹی اہلکار جانیں گنوا رہے ہیں، احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
مذاکرات میں ڈیڈلاک اور انسداد دہشتگردی پالیسی :
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو انسداد دہشتگردی کی پالیسی کے حوالے سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ، ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف قومی پالیسی پہلے سے موجود ہے اور سیکیورٹی ادارے اسی کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف کیے جا رہے ہیں ، ان کے بقول کسی نئے بڑے آپریشن یا نقل مکانی کا منصوبہ نہیں بنایا جا رہا، تاہم انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
افغانستان سے متعلق حکومتی مؤقف :
رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکام کے ساتھ متعدد مواقع پر یہ معاملہ اٹھایا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، چین اور ترکیہ نے بھی افغان حکام کو پاکستان کے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے ، ان کے مطابق پاکستان کے مؤقف اور خدشات کو تسلیم کیا گیا، تاہم افغان حکام کی جانب سے اس حوالے سے ضمانت فراہم نہیں کی گئی۔
حکومتی مشیر نے ایک بار پھر کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے، تاہم حکومت کے مطابق بات چیت کے لیے احتجاجی دباؤ ختم کرنا اور دہشتگردی کے خلاف پالیسی پر تعاون ضروری ہے۔

