اسلام آباد(کرائم رپوٹر)سیف سٹی ای چالان سسٹم ٹریفک قوانین کے نفاذ میں موثر کردار ادا کر رہا ہے جس سے مہلک حادثات اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی، گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران16ای چالان ٹکٹس جاری،اب تک کل 02لاکھ76ہزارسے زائد ای چالان ٹکٹس جاری کئے جاچکے ہیں،شہری ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں، تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے بین الاقوامی معیار کے مطابق وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ا ی چالان سسٹم کے تحت ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے گزشتہ24گھنٹوںکے دوران16ای چالان ٹکٹس جاری کیے ہیں،اب تک ٹریفک قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر کل02لاکھ 76ہزار279ای چالان ٹکٹس جاری کیے جاچکے ہیں،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے قانون شکنوں کےخلاف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ سے لنک ڈیٹا بیس کی مدد سے خصوصی قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے.
جس کے تحت قانون شکنوں کوان کے موبائل نمبرز پر ای چالان ٹکٹ کا پیغام ارسال کیا جاتا ہے، ای چالان سسٹم کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے مہلک حادثات اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،جاری شدہ چالان ٹکٹس گاڑی اور موٹرسائیکل مالکان کے گھر بھی ارسال کئے جارہے ہیں، جر مانے کی رقم مقررہ وقت پر ادا نہ کر نے پر چالان کی کاپی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں گا ڑی کی ماسٹر فائل میں چسپاں کی جا رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ چالان کے بقایا جات کو ادانہ کرنے والے گاڑی مالکان جب تک جرمانے کی رقم ادا نہیںکرتے اس وقت تک گاڑی یا موٹر سائیکل کسی دوسر ے شخص کے نام منتقل نہیں کیا جاسکے گا جبکہ جرمانے کی رقم ادا کرنے کے لئے شہریوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہوئے مختلف موبائل اور بینک اکاو¿نٹس کی سہولت فراہم کی گئی ہے،سینئر پولیس افسران نے کہا کہ سیف سٹی ای چالان سسٹم سے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں اورای چالان سسٹم کے تحت بہترین مانیٹرنگ کے باعث مہلک حادثات اوردیگرقوانین کی خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، انہوں نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی کے کیمروں کے ذریعے کئے جانے والے چالان کے جدید نظام کو مزید بہتر اور موثر بنایا جارہا ہے اس نظام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کوبروئے کار لاتے ہوئے حادثات کی روک تھام کو یقینی بناتے ہوئے ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے.

