اسلام آباد(سٹی رپورٹر)پنجاب شادی ہالز، مارکیز اور لان اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری راؤ طارق اسلام نے کہا ہے کہ حکومت ون ڈش پالیسی پر نظر ثانی کرے اورشادی ہال مالکان اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعدنئی پالیسی مرتب کرے،ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزی کی سزائیں فوری طور پر معطل کی جائیں،شادی ہالز کے کاروبار کا تحفظ اور کاروباری استحکام کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں، شادی ہالز مالکان سے سوتیلے پن کا سلوک بند کیا جائے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی شادی ہالز ایسوسی ایشن کے صدر ملک ظہور ایدووکیٹ و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،انکا مزید کہنا تھا کہ ون ڈش قانون پورے ملک پہ لاگو ہوے 20 سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہےہر سال شادی تقریبات سیزن شروع ہوتے ہی حکومت اس قانون کے ذریعے عوام کو سادگی کے لیے صرف ون ڈش کی آڑ میں شادی بال مالکان کے کاروبار کو ہدف بناتی ہے،میرج ایکٹ 2016 کے تحت حکومت اور انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ ، مالکان کی گرفتاری، اور شادی ہال کو سیل کرسکےجس پر پنجاب حکومت اس شادی سیزن پر بہت سختی سے عمل درآمد کروارہی ہے۔
ون ڈش قانون پورے پاکستان پہ لاگو ہے، مگر سختی صرف پنجاب میں ہے، کے پی کے حکومت نے 2018 میں اس میں تھوڑی سے نرمی کی اور ون ڈش کے ساتھ اضافی ڈش کا اضافہ کیا اور تقریب 11 بجے تک منعقد کرنے کی اجازت دیدی ہے،دیگر صوبوں میں یہ پالیسی تو موجود ہے مگر ان میں اس سختی کے ساتھ عمل نہیں ہورہا ہے ،بڑی مشکل سے سال کے 100 دن کا کاروبار ہوتا ہے،حکومت اپنے ان قوانین کی رو سے شادی ہال مالکان کو بلیک میل کرتی رہتی ہے،ون ڈش پالیسی کے نفاذ سے شادی ہال انڈسٹری کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے ہال مالکان نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اس پالیسی کے باعث شادی ہال میں منعقد فنکشنز بدمزگی کا شکار ہوتے ہیں جس سے ایک ابھرتی ہوئی انڈسٹری جس سے بہت سے گھروں کے چولہے جلتے ہیں اسکے چولہے مدہم ہو رہے ہیںپاکستان جسے اس وقت بے روز گاری کا بہت شدت سے سامنا ہے اور یہ پالیسی اس کی شدت اس میں مزید اضافہ کرے گی روزگار کے مواقع سکڑریں گے، شادی ہال انڈسٹری پاکستان کی اکانومی کی ایک بنیادی اکائی ہےجس سے براہ راست بہت سے شعبے وابستہ ہیں اس پہ اس طرح کے قدغن اور پابندیاں ان کو براہ راست متاثر کریں گی.
جس سے اس مشکل حالات سے چلتی معیشت مزید بگڑ سکتی ہے شادی ہالز میں ہزاروں افراد براہ راست اور بالواسطہ روزگار حاصل کرتے ہیں ون ڈش پالیسی کے نتیجے میں کیٹرنگ، سروس اور کچن اسٹاف، ڈیکوریش اور دیگر ایسے شعبے بھی متاثر ہورہے ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ سادگی صرف شادی کی تقریب میں ون ڈش کے قانون پر عملدرآمد سے نہیں آئے گی، ون ڈش پالیسی کے نتیجے میں شادی ہالز کی آمدنی براہ راست کم ہو گی اس کمی کا اثر FBR کے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریونیو پر پڑتا ہے، انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ، چیف جسٹس آف پاکستان، گورنر پنجاب، اور خاص الخاص وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ انکےمطالبات پر ہمدردانہ غور کریں اور اس پالیسی پر نظر ثانی عوامی امنگوں کے مطابق کرے اور سخت پابندی کے ، شادی ہالز کو لچکدار پالیسی دی جائے تاکہ عوام اپنی تقریبات کو اپنی منشا کے مطابق منعقد کر سکیں اور حکومت بھی اپنے ٹیکس کے اہداف کو حاصل کر سکے، انہوں نے خبردار کیا کہ بات چیت اور تعاون کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، لیکن یکطرفہ فیصلے کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔

