ممبئی (ویب ڈیسک) بھارتی کوریوگرافر بوسکو نے اداکارہ کترینہ کیف کے کیریئر کے ابتدائی دور سے متعلق اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اداکارہ کو اس وقت رقص میں مشکلات کا سامنا تھا اور ایک کوریوگرافر نے انہیں ڈانس کے معاملے میں انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے اسے چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
بوسکو اور کوریوگرافر سیزر نے حال ہی میں ہدایتکار و کوریوگرافر فرح خان کے ساتھ ایک گفتگو میں اپنے فنی سفر، کوریوگرافی اور فرح خان کے ساتھ کام کرنے کے تجربات پر بات کی ، دورانِ گفتگو فرح خان نے اپنی مشہور کوریوگرافی ’شیلا کی جوانی‘ کے بارے میں بتایا کہ یہ ان کی اب تک کی کم بجٹ میں تیار ہونے والی گانوں کی پرفارمنسز میں سے ایک تھی ، ان کے مطابق اس گانے کی شوٹنگ صرف 10 لڑکوں اور کترینہ کیف کے ساتھ کی گئی تھی۔
بوسکو نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’شیلا کی جوانی‘ کترینہ کیف کے فلمی کیریئر کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ فرح خان نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ گانا واقعی کترینہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا، تاہم اس وقت انہیں خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اداکارہ اتنا اچھا ڈانس کرسکتی ہیں۔
بوسکو نے کترینہ کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اداکارہ کو ایک کوریوگرافر کی جانب سے سخت تنقید اور حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کے مطابق کترینہ سے یہاں تک کہا گیا تھا کہ وہ ڈانس نہیں کر سکتیں اور انہیں رقص کے شعبے کو چھوڑ دینا چاہیے ، کوریوگرافر کے مطابق بعد میں کترینہ کیف نے اپنی محنت اور مسلسل پریکٹس سے خود کو منوایا اور ’شیلا کی جوانی‘ جیسی پرفارمنس نے ان کے رقص کے حوالے سے تاثر کو یکسر تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

