راولاکوٹ (نامہ نگار ) آ زاد کشمیر میں آ زاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں 9 جون کو مہاجرین کی نشستوں سمیت 38 مطالبات کے معاملے میں تصادم فائرنگ کا واقعہ میں 4 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید جبکہ 20 سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق مسلح عناصر نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اور سیکیورٹی اہلکار گن شاٹ زخموں کا شکار ہوئے، واقعے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں اور سی ایم ایچ راولاکوٹ منتقل کردیا گیا، جہاں انہیں ضروری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
ترجمان پولیس کے مطابق آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ دہشت گردی کے مترادف ہے اور اس قسم کے اقدامات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ اور عوامی امن کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس ترجمان کے مطابق سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں امن، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہیں، جبکہ پولیس شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور زخمی اہلکاروں کے علاج کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں، پولیس حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی مسلح گروہ کو ریاستی نظم و نسق یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آزاد کشمیر میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ترجمان آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ قانون اپنا راستہ لے گا اور ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو حکومت نے کالعدم قرار دیا ہوا ہے ان کے عہدے داروں نے حکومت کے خلاف نو جون کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس کے بعد وزیراعظم ازاد کشمیر کے احکامات کی روشنی میں پولیس طلب کر لی گئی جبکہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے حکومت سے 38 مطالبات کا مطالبہ کیا تھا جس میں مہاجرین کی 12 نشستوں سمیت دیگر کے معاملے میں ابھی تک پیشرفت نہ ہوئی جس کے بعد 9 جون کو ہڑتال کی کال دے دی گئی ہے.

