پمز میں بچوں کی اموات اور آتشزدگی، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 7 افسران چارج شیٹ

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات اور آتشزدگی کے واقعہ پر غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ کردیے گئے، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر سمیت سات افسران پر حفاظتی اقدامات، ہنگامی انتظامات اور فائر سیفٹی پروٹوکولز پر عمل درآمد میں ناکامی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چارج شیٹ میں ہسپتال کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی ایکشن پروگرام، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار اور مریضوں کے محفوظ انخلا سے متعلق مبینہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، جس کے مطابق سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر پر حفاظتی پروٹوکولز اور ضروری انتظامات نافذ کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ ان کی غفلت کے باعث جولائی اور اگست میں آتشزدگی کے واقعات پیش آئے جب کہ جولائی 2026 میں ہاسٹل میں پیش آنے والے حادثے کی انکوائری میں سامنے آنے والی خامیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں بھی مبینہ طور پر غفلت برتی گئی ، دستاویزات میں بتایا گیا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنے ماتحت افسران کے ذریعے مخصوص معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) اور حادثات سے نمٹنے کے لیے کمانڈ پروٹوکول مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں ہسپتال میں باقاعدہ معائنے اور مناسب جانچ پڑتال کے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مطاہر شاہ پر نرسنگ امور اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام ہے،چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ہسپتال کے باقاعدہ معائنہ راؤنڈز کرنے اور متعلقہ امور کی نگرانی یقینی بنانے میں بھی ناکام رہے۔

اِسی طرح جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل وارث علی رضا کے خلاف بند راستوں، ناقص وینٹیلیشن اور خراب آلات سے متعلق سنگین نوعیت کی غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے، الزامات کے مطابق ان کوتاہیوں نے ہنگامی انخلا اور امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹ پیدا کی ، اسی طرح ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد پر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کی نگرانی میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا ہے.

ڈاکٹر سعدیہ ریاض کے خلاف رات کے اوقات میں عملے اور ڈاکٹروں کی دستیابی یقینی نہ بنانے کی شکایت چارج شیٹ کا حصہ ہے ، چارج شیٹ کے مطابق ڈاکٹر انیزہ جلیل نے نوٹس ملنے کے باوجود حادثے کی وجوہات اور انخلا کے مسائل سے متعلق خامیوں کو دور کرنے میں مبینہ سستی کا مظاہرہ کیا،دوسری جانب ڈاکٹر نغم نواز پر آتشزدگی کے واقعے کے دوران اپنے ڈیوٹی سٹیشن کو مناسب نگرانی کے بغیر چھوڑنے اور غیر حاضر رہنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔