اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے جی ایس ایم اے منسٹریل پروگرام کے پینل ڈسکشن میں خطاب کیا اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے حوالے سے اہم اقدامات کو اجاگر کیا۔ وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسیز سرمایہ کاری، انوویشن، محفوظ ڈیٹا، اسکلز اور شمولیت کو فروغ دے رہی ہیں وزیر نے ڈیٹا گورننس، نیشنل سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ فرسٹ پالیسی اور قومی اے آئی پالیسی کو پاکستان کی بنیادی اصلاحات قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کو ڈیجیٹل معیشت کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔
شزا فاطمہ نے DEEP پروگرام، ای آفس اور 50 سے زائد ڈیجیٹل سرکاری خدمات کو اہم سنگِ میل قرار دیا۔ یو ایس ایف کے تحت 2.8 ملین افراد تک فائبر رسائی فراہم کی گئی اور 211,000 کلومیٹر آپٹک فائبر بچھائی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی پارکس، ٹیک زونز اور انکیوبیشن سینٹرز نوجوان ٹیک ٹیلنٹ کو عالمی مارکیٹ اور انوویشن سے جوڑ رہے ہیں۔ DigiSkills کے 4.8 ملین لرنرز، جن میں 1.28 ملین خواتین شامل ہیں، پاکستان کی بڑی کامیابی ہیں انہوں نے پائیدار ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے مستقبل آگاہ گورننس فریم ورک، اعلیٰ معیار کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مضبوط ڈیٹا گورننس، سائبرسیکیورٹی اور شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 پاکستان اسٹیک اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھتا ہے اور شفاف و جدید ڈیٹا شیئرنگ کو فروغ دے گا۔

