سائیڈ ایونٹ COP30 میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا گرین پاکستان پروگرام کی کامیابیوں پر کلیدی خطاب

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے 20 نومبر 2025 کو COP30 میں منعقدہ سائیڈ ایونٹ “Upscaling the Green Pakistan Programme (UGPP): A Success Story” میں خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا یہ سائیڈ ایونٹ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان کے جنگلاتی بحالی کے اقدامات، وسیع پیمانے پر شجرکاری، اور ماحولیاتی نظام کی بحالی سے متعلق کامیابیوں کو اجاگر کرنا تھا اپنے خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ عالمی موسمیاتی مباحثوں کا مرکز گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے، جنہیں بنیادی طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے معیارات کے ذریعے ناپا جاتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اصل ضرورت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور ایسے قدرتی نظاموں کے فروغ کی ہے جو بڑے پیمانے پر کاربن کو جذب کرسکیں۔

انہوں نے نیچر بیسڈ سولیوشنز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا, “کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے فیکٹریاں درکار ہیں, اور وہ فیکٹری دراصل درخت ہے۔ ہم یہاں موسمیاتی تحفظ، کاربن بوجھ میں کمی اور جنگلات کے اس کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے موجود ہیں وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگلات نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی (Mitigation) کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ موسمیاتی موافقت (Adaptation) کے لیے بھی کلیدی اہمیت رکھتے ہیں انہوں نے بتایا کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت پاکستان نے بنجر اور بے آباد زمینوں پر اربوں درخت لگا کر انہیں دوبارہ زندگی بخشی ہے۔ اس عمل نے مقامی برادریوں میں موسمیاتی آگاہی پیدا کی ہے اور انہیں جنگلات کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا, “ہم اپنے جنگلات کے ساتھ کھڑے ہیں، اور دنیا بھر کے تمام جنگلات کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ ہم موسمیاتی بقا کے ساتھ کھڑے ہیں, اور ہم اسے ہر صورت محفوظ رکھیں گے۔ تقریب میں وزارت کی تیار کردہ ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں پروگرام کے تحت شجرکاری، کمیونٹی شمولیت اور ماحول دوست اقدامات کو نمایاں کیا گیا اس ایونٹ میں ماہرینِ موسمیات، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی ماحولیاتی حلقوں کے ارکان نے شرکت کی، جبکہ ایک پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوا جس میں جنگلاتی بحالی اور موسمیاتی لچک پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔